اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا یہ مرحلہ تین گھنٹے تک چلا۔ جواد ظريف، جان کیری اور كیتھرن ایشٹن کے درمیان مذاکرات کا چوتھا مرحلہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہو گیا۔ پہلے دن کے مذاکرات دو مراحل میں ہوئے تھے جو تقریبا چھ گھنٹے تک جاری رہے۔ ابھی تک پہلے دن کے مذاکرات کی تفصیلات پتہ نہیں چل سکی ہے۔
پیر کو ہونے والی سہ فریقی مذاکرات کے بعد، منگل کو ظريف اور ایشٹن کی صدارت میں ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے نائب وزرائے خارجہ اور معاونین کے اجلاس ہوں گے جس میں دونوں فریق، مذاکرات کی حالیہ پیشرفت اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے تفصیل سے آگاہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک اس کوشش میں ہے کہ24 نومبر کی مقررہ مدت سے پہلے جامع سمجھوتہ ہو جائے۔
دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دونوں فریق، نتائج کے بہت ہی قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مسقط میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو مفاہمت ہوئی ہے اس سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ مذاکرات کے دونوں ہی فریق نتیجے تک پہنچنے میں بہت سنجیدہ ہیں اور ہم ان میں یہ دلچسپی دیکھ رہے ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اہم مذاکرات، عمان میں ہونے والے پہلے مذاکرات نہیں ہیں بلکہ عمان گزشتہ پانچ برسوں سے دونوں فریق کے درمیان سمجھوتہ کرانے کے لئے بہت کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جو مفاہمت ہوئی ہے اس سے وہ بہت مطمئن ہیں۔
یوسف بن علوی نے کہا کہ مذاکرات کے دونوں ہی فریق نے کوئی ضمانت نہیں دی ہے کیونکہ جن مسائل پر مذاکرات ہو رہے ہے وہ بہت ہی حساس اور اہم ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتی کیونکہ سب ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ان کا ملک، ایران اور مغرب کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کو تیار ہے کیونکہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کا حل جلد ہو جائے۔
.......
/169